لارا[2]
قسم کلام: صفت ذاتی
معنی
١ - دبلی، پتلی (لڑکی) 'فاطمہ لارا (دبلی پتلی) جو علاقہ گوران کے باراشاہی قبیلے کی تھی" ( ١٩٢٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٨٠٨:٣ )
اشتقاق
مقامی بولیوں سے اردو میں داخل ہوا، ١٩٢٧ء کو 'اردو دائرہ معاف اسلامیہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - دبلی، پتلی (لڑکی) 'فاطمہ لارا (دبلی پتلی) جو علاقہ گوران کے باراشاہی قبیلے کی تھی" ( ١٩٢٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٨٠٨:٣ )
جنس: مؤنث